Loading the player ...

سوشل میڈیا

28-1-2017

ہولوکاسٹ متاثرین کو خراج عقیدت

دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 60لاکھ یہودیوں اور دوسرے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خصوصی اجتماع ہوا ۔اس موقع پر ہولوکاسٹ میں بچے رہنے والے افراد، دوسری جنگ عظیم لڑنے والے سابق فوجی اور ان کے اہلخانہ بھی حاضرین میں موجود تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرش نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں کو اچھے انداز میں یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہرانسان کے لیے بہتر مستقبل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس دن کو بہت سے لوگوں کا سوگ منانے کا موقع قرار دیا تاہم اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بچھڑنے والوں کا افسوس کرنے کے ساتھ ساتھ یاد رکھنے، سوچنے سمجھنے اور آگے بڑھنے کا موقع بھی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہودیوں سے نفرت ہزار سال سے چلی آ رہی ہے اور ان کے اپنے وطن پرتگال نے بھی 16ویں صدی میں یہودیوں کو نکال باہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں سے نفرت کے ساتھ ساتھ نسل پرستی، اجنبیوں اور مسلمانوں سے نفرت اور عدم رواداری کی دیگر اقسام آج بھی باقی ہیں۔

20ویں صدی کے خوفناک واقعات کے بعد 21صدی میں عدم رواداری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ یہودیوں سے نفرت سمیت ہر قسم کے تنفر کے خلاف جدوجہدمیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے میں اگلی صفوں میں ہوں گا۔ تمام لوگوں کے لیے باوقار اور مساوات پر مبنی مستقبل یقینی بنانے کا یہ بہترین طریقہ ہے اور ہولوکاسٹ کے متاثرین کو بھی اسی انداز میں بہترین طور سے خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے جنہیں ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہولوکاسٹ میں بچ رہنے والے اور اقوام متحدہ کے سابق سفیر امن ایلی ویزل کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جو گزشتہ برس انتقال کر گئے تھے۔ انتونیو گوتیرش نے باہم احترام اور قبولیت کے حوالے س انہیں دنیا کی پرامید ترین آواز قرار دیا۔